ابنا: پاکستان کے صدر نے منگل کي رات اسلام آباد ميں بين الاقوامي امور ميں اسلامي جمہوريہ ايران کے نائب صدر علي سعيد لو سے ملاقات ميں کہا ہے کہ پاکستان ايران کے ساتھ تمام ميدانوں ميں تعاون کو فروغ دينے اور باہمي تعلقات کو پہلے سے بھي زيادہ مستحکم بنانا چاہتا ہے -
انہوں نے کہا کہ پاکستان آزاد تجارتي پاليسي پر عمل پيرا ہے - صدر زرداري نے کہا کہ پاکستان ايران سے بجلي کي فراہمي کے منصوبے پر بھي جلد سے جلد عمل درآمد چاہتا ہے -
پاکستان کے صدر نے کہاکہ ايران اور پاکستان دونوں ہي نئي سرحدي گذرگاہ قائم کرکے پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور کراچي شہر کو ايران کے ساحلي شہروں چابہار اور بندرعباس سے متصل کرسکتے ہيں -
ايران پاکستان گيس پائپ لائن گيس منصوبے پر عملدرآمد کے سلسلے ميں پاکستان کے صدر کي جانب سے پختہ عزم کا اظہار ايک ايسے وقت کيا جارہا ہے جب امريکا کي جانب سے اس منصوبے سے دستبردار ہونے کے لئے پاکستان پر دباؤ کا سلسلہ جاري ہے -
واشنگٹن سے موصولہ رپورٹ کے مطابق امريکي دفتر خارجہ کي ترجمان وکٹوريا نولينڈ نے کہا ہے کہ ايران گيس پائپ لائن منصوبے سے پاکستان کو الگ کرنے کے لئے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درميان گفتگو جاري ہے -
انہوں نے کہا کہ پاکستان کي توانائي کي ضرورت پوري کرنے کے لئے امريکا دنيا کے توانائي برآمد کرنے والے کئي ملکوں سے بات چيت کررہا ہے -
وکٹوريا نولينڈ نے اسي کے ساتھ يہ بھي کہا کہ جب تک يہ واضح نہيں ہوجاتا کہ امريکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کس نوعيت کے ہوں گے اس وقت تک امريکا يہ نہيں بتا سکتا کہ واشنگٹن اسلام آباد کے ساتھ کس طرح کے تعلقات رکھے گا.
.........
/169